Tu meri janan by Laiba Marri


تو میری جاناں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی میں مشال سے شادی کرونگا تو مطلب کرونگا
حنان نے سخت غصے میں کہا ۔۔۔۔۔
دیکھ حنان تیری ہر بات مانی ہے کیوں کے تو میرا پیارا اور اکلوتا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔پر یہ نہیں مشال نہیں تو جسکی بھی بات کر میں کرا دونگی لیکن مشال
سے نہیں ۔۔۔۔۔سارا نے جنونی ہوکر کہا
لیکن امی وہ کیوں نہیں کیا کمی ہے اس میں ۔۔۔۔حنان کو اب ماں پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔
تو نے اسکی ماں ستارہ کو دیکھا ہے کتنا منہ چلاتی ہے بیٹی بھی اسی پر گئی ہوگی ۔۔۔۔۔سارا نے منہ پر عجیب سے تیور لا کر کہا ۔۔۔۔
اف امی تو کیا اپنے چاچو کا رویہ دیکھا ہے چاچی کو روز مارتے تھے ۔۔۔تو چاچی بھی بیچاری دل کی
سری بھڑاس نکال دیتی تھی ۔۔۔۔۔ حنان نے سمجھاتے ہوے کہا
نہیں مشال نہیں ۔۔۔۔میرا دل نہیں مان رہا ۔۔۔سارا نے ایک بار پھر ضد کی ۔۔۔۔۔
دیکھے امی ۔۔۔۔
آپ کو ابو جیسے شخص کا ساتھ ملا اس لئے آپ سلجھی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
اب چاچی کو دیکھیں ایک اسے آدمی کا ساتھ ملا جو اسے مارتا بھی ہے گالیاں بھی دیتا ہے ۔۔۔۔تو اب چاچی کیا کرے ۔۔۔۔چاچی کو بھی غصہ آتا ہوگا وہ بھی انسان ہے ۔۔۔۔۔۔کڑوی باتیں بول کر اپنے من کی ساری کڑواہٹ نکال دیتی ہیں ۔۔۔۔۔
ہم اور چاچو کی۔ فیملی دس سال پہلے الگ ہوگئے تھے تب مشال چھوٹی تھی چاچی نے تو اپنی ساری جوانی محلے والوں کے کپڑے سیتے اور مشال کی تربیت میں صٙرف کردی ۔۔۔۔۔۔اب مشال نوکری کرنے لگی ہے ۔۔۔چاچو کا اس نے علاج کروایا ہے اب وہ بلکل ٹھیک ہیں اور چاچی بھی اب زیادہ نہیں بولتی ۔۔۔۔آپ ھی سوچے امی جو لڑکی اپنے نشائی باپ کے لئے اتنا کر رہی ہے میرے لئے وہ کیا کچھ نہیں کرے گی ۔۔۔۔حنان نے ایک ھی سانس میں تقریر کر ڈالی ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر تو کہتا ہے تو مان لیتے ہیں لیکن کلکو چالیں گے تمہاری بہن بھی آۓ گی اور تمہیں بھی کل چھٹی ہوگی ۔۔۔۔۔سارا نے مسکرا کر کہا
اوکے امی اللہ‎ حافظ ۔۔۔۔اور حنان دل ہی دل میں خوش ہوکر آفس کی طرف روانہ ہوا ۔۔۔۔
****************************************
ہاۓ وہ بھولی سی لڑکی
میرا دل چوری کر کے لے گئی
حنان مشال کو سوچتے ہوۓ کار ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔کے اچانک اسکی نظر مشال پر پڑی جو فٹ پاتھ پر چل رہی تھی ۔۔۔۔۔حنان نے کار اسکے سامنے روکی ۔۔۔۔مشال اچانک کار آنے کی وجہ سے دار گئی ۔۔۔۔۔
حنان کار سے نکلا تو ۔۔۔مشال کی نظر جب حنان پر پڑی تو اسکا در کم ہوگیا ۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔۔۔حنان نے سلام کیا
علیکم سلام ۔۔۔۔مشال نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔
آپ چلے میں آپ کو چھوڑ دونگا آفس تک ۔۔۔۔۔
مشال نے منع کرنا چاہا لیکن حنان پہلے بول پڑا
پلز نا کیا کیجئے گا ۔۔۔۔۔۔
مشال چپ چاپ جاکر اگلی سیٹ پر بیٹھی ۔۔۔۔ویسے بھی حنان کونسا اسکا غیر تھا دونوں کزن بھی تھے اور بچپن کے دوست بھی ۔۔۔۔۔
مشال کے باپ کی حرکتوں کے وجہ سے دونوں بھائی الگ ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔۔اور الگ ہوے تو بس ایسے ہوے کے صرف خوشی غم میں آنا جانا ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔
مشال باہر کے منظر کو دیکھ رہی تھی اور حنان مشال کو ۔۔۔۔۔
مشال بچپن میں بہت کوجی ہوتی تھی لیکن بڑی ہوئی تو کافی خوبصورت ہوگئی تھی ۔۔۔چھوٹی سی ناک پیاری بڑی بڑی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔پتلے ہونٹ ۔۔۔۔۔
اور گورا رنگ جس نے اسکو اور خوبصورت بنایا ہوا تھا ۔۔۔۔
مشال ۔۔۔۔حنان نے مشال کو بلایا ۔۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔مشال نے جواب دیا ۔۔۔۔
چاچو اور چاچی کیسے ہیں ۔۔۔۔۔حنان نے انکی طبیعت پوچھی ۔۔۔۔
بلکل ٹھیک ہیں آپ سناؤ سب کیسے ہے ثانیہ آپی کیسی ہیں ۔۔۔۔مشال نے بھی پوچھنا ضروری سمجھا
سب ٹھیک ٹھاک ہیں ۔۔۔۔۔حنان نے جواب دیا اور مشال کا آفس آگیا تھا
اوکے تھنک یو اینڈ اللہ‎ حافظ ۔۔۔۔۔مشال نے کہا
Take care ......see u soon ....
حنان نے کہا ۔۔۔۔۔
مشال مسکرائی اور آفس کے اندر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔
حنان بھی اپنے آفس روانہ ہوگیا ۔۔۔۔
حنان اپنے ابو کا بزنس چلا رہا تھا
بزنس تو مشال کے ابو کا بھی تھا لیکن کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اور کم عقلی کی وجہ سے سارا بزنس ۔۔۔۔۔ٹھپ ہوگیا ۔۔۔۔۔
اور اب حنان اپنے آفس کا بوس تھا اور مشال کسی دوسرے آفس میں بطور مینیجر کام کر رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنان صبح اٹھا آج اسکے آفس کا اوف تھا ۔۔۔۔
حنان آج بہت خوش تھا کیوں کے آج وہ مشال کے گھر جانے والے تھے ۔۔۔۔
مشال اسکے بچپن کا پیار تھی ۔۔۔۔۔وہ اسکو کیسے خود سے دور کرتا ۔۔۔۔۔
تجھ پر دل ہار بیٹھے ہیں ہم جاناں
کبھی دور نہ ہونا ہم سے
ورنہ
سانس بھی نہ لے سکے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حنان نے سفید ڈریس پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور سارا اور ثانیہ بھی تیار تھی ۔۔۔۔۔۔
حنان کے والد کا ایک سال پہلے وفات ہوگئی تھی ۔۔۔
ثانیہ کی شادی اسکے مامو کے بیٹے سے کی۔ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
پھر تینوں مشال کے گھر روانہ هوے ۔۔۔۔
وہاں گیٹ الریدی کھولا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
مشال اپنے چوٹے سے باغیچے میں پودوں کو پانی دے رہی تھی اسکو وائٹ شوٹ ڈریس تھی بال کمر تک تھے جن سے پانی ٹپ ٹپ بہرہا تھا ۔۔۔۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا وہ ابھی نہائ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔حنان کو وہ دل کے بہت قریب محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔لیکن اس نے اپنی نظرے دور کردی ۔۔۔۔کیوں کے وہ اسے اپنا محرم بنا کر اپنا حق جتا کر اسے دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
مشال کی نظر حنان والوں پر پڑی تو ۔۔۔۔اس نے پائپ چھوڑ دیا اور مہمانوں سے ملنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
سارا اور ثانیہ اگے اگے تھی مشال اور حنان پیچھے پیچھے ۔۔۔۔آج بندریا بھی پودوں کو پانی ڈرہی تھی ۔۔۔۔۔حنان نے مشال کو چڑایا
چپ کرو بندر اور اندر چالو . . ۔۔۔۔۔۔مشال نے غصے میں کہا ۔۔۔۔۔۔اندر مشال کے ابو اور اسکی امی بیٹھے کسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم سارا نے سلام کیا تو ستارہ خوشی خوشی انکے گلے لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
علی صاحب (مشال کے ابو ) بھی بڑی خوشی سے ملی ۔۔۔۔۔۔۔
سب پہلے کی باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔تو حنان پانی کا بہانہ بنا کر باورچی کھانے آگیا ۔۔۔۔۔اور مشال کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
مشال کو اپنے اوپر کسی کی نظرے محسوس ہوئی تو اس نے موڑ کر دیکھا حنان کھڑا تھا ۔۔۔۔
حنان بھائی آپ کو کچھ چائیں ۔۔۔۔۔۔مشال کے منہ سے حنان کے ساتھ بھائی بھی نکل گیا ۔۔۔۔
بھائی نہیں صرف حنان اوکے ۔۔۔۔۔حنان نے سمجھا نے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔
بھائی کیوں نہیں ۔۔۔۔۔مشال نے حیرانی سے کہا
یار حد ہے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ایک تم ہو کھڑوس بھائی بنانے پر تلی ہو ۔۔۔۔حنان نے چڑ کر سب بول دیا ۔۔۔۔
اور مشال منہ کھولے حنان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہی ہو منہ بند کرو مکھیوں کا ٹولا گھس جائے گا ۔۔۔۔۔۔
مشال نے منہ بند کیا اور ٹرے اٹھا کر اندر جانے لگی حنان نے اسے روکنے کے لئے اپنا ہاتھ اگے دے دیا
فلحال نہ جاؤں ۔۔۔۔۔حنان نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر کہا
کیوں ۔۔۔۔مشال کے منہ سے نکلا
کیوں کے اندر ہمارے رشتے کی بات ہورہی ہے میں اندر جارہا ہوں تھوڑی دیر بعد آنا مجھے تمہارے اس چہرے پر حیا کے رنگ دیکھنے ہے ۔۔۔۔۔
یہ کہ کر حنان چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
اور جیسے وہ گیا ۔۔۔۔۔مشال نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
پورا پاگل ہے ۔۔۔۔کیسے رہوں گی اسکے ساتھ وہ بھی پوری زندگی ۔۔۔۔۔۔۔رحم کرنا مولا ۔۔۔۔۔
مشال نے دل میں کہا اور خود ہی اپنی دعا پر ہنس . رہی تھی
تھوڑی دیر بعد مشال اندر گئی تو سارا نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور اسکو منظور ہے یہ رشتہ پوچھا تو ۔۔اس نے سر نیچے کر کے ہاں میں سر ہلایا
سب پر مٹھائی کھانے لگے تو مشال کے موبائل پر میسج آیا ۔۔۔۔۔
اسے نہ شرماؤ ۔۔۔۔قسم سے پیار ہوجاۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔
مشال نے جلدی حنان کی طرف دیکھا اور آنکھیں دکھائی تو بدلے میں حنان نے موقعے کا فائدہ اٹھا کر آنکھ ماری ۔۔۔۔۔۔بدتمیز مشال نے زیر لب بڑبڑایا
حنان کے ہونٹوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ نمو دار ہوئی ۔۔۔۔
اس طرح ایک شام اختیتام کو پہنچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنان تو پھولے نہیں سماء رہا تھا ۔۔۔۔۔
جیسے اسکو مشال نہیں کوئی خزانہ مل گیا ہو ۔۔۔۔
آج کے دن مشال اور حنان کی منگنی بھی تھی ۔۔۔۔
اور حنان کی برتھڈے پارٹی بھی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال ۔۔۔حنان کو دور سے آتی دکھائی دی ۔۔۔۔۔۔
مشال آج بلیک کلر کی ڈریس میں تھی ۔۔۔۔۔اتفاقاً آج حنان کو بھی بلیک ڈریس تھی ۔۔۔۔۔۔
پارٹی رات کے وقت تھی ۔۔۔
مشال کو یلو کلر کا دوپٹہ گلے میں تھا
وہ بلکل سادہ تھی اور پارٹی میں بھی صرف اپنے رشتے دار تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال اسٹیج پر گئی کیک کاٹا گیا ۔۔۔۔۔۔
اب انگوٹھی پہنانی تھی پہلے مشال نے پہنائی ۔۔۔
حنان ۔۔۔۔نے جب مشال کو انگوٹھی پہنائی تو سب نے ہوٹنگ کی ۔۔۔۔۔۔پھر شور کی وجہ سے حنان نے مشال کو اپنی طرف کھینچا اسکے کان کے پاس جھکا ۔۔۔۔۔۔ تو میری جاناں ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت محبت سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال اس بات پر کھلکھلائی ۔۔۔۔تو حنان نے بھی اسکی ہنسی میں اپنی ہنسی بھی شامل کر دی ۔۔۔۔
سارا اور ستارہ دل ہی دل میں اپنے بچوں کی آنے والے زندگی کی آسانی کی دعا کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

Khalil Jibran sy Mirza Adeeb or Ahmed Adnan tak by Hafiz Muzaffar Mohsin




Yamly sy Kamly tak by Hafiz Muzaffar Mohsin







Tarsty hain minbr o mahrab Article by Romana Gondal

Tarsty hain minbr o mahrab Article by Romana Gondal

Pardy mein islam nahi article by Romana Gondal

Pardy mein islam nahi article by Romana Gondal

Larki ko nikah se pehly dekh lena behtar hai article by Muniba Gul


🌹لڑکی کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا بہتر ہے 🌹

لڑکی کو دیکھنے کے سلسلہ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس کے ایک سورت تو یہ ہے کہ پیغام دینے والا خود اس لڑکی کو جانتا ہے اور اس کو کس طرح دیکھ لے یہ اچھی صورت ہے۔ دوسرے صورتِ کہ لڑکے کی ماں،  بہن،  پھوپھی یا کوئی عزیز خاتون لڑکی کے گھر جاکر دیکھ لے اور اطمینان کرلے ۔اس صورت میں  اس بات  کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ جو لڑکی دکھائی ہے۔ جس کو لڑکا پیغام دیتا چاہتا ہے ۔ بعض مرتبہ لڑکی والے اس قسم کے مواقع پر کوئی اور لڑکی سامنےلے آتے ہیں ۔
نکاح سے پہلے لڑکی کو دیکھ لینا اچھی بات ہے ۔ لیکن آج کل ہمارے ہاں اس اچھی بات کو لوگوں نے بگاڑ دیا ہے ۔ہمارے نوجوان جب تک جوان رہتے ہیں ۔تب تک شادی کرنے کا نام نہیں لتیے ۔کہتے ہیں ۔کہ ایم  اے کریں گے۔ ڈاکٹر بنا گے ۔انجینئر بنے گے۔وغیر ۔ملازمت ملے گی، تب شادی کریں گے۔ ملازمت ملنے کے بعد تیس کے لک بھگ عمر ہوجاتی ہے۔
اب انھیں رشتہ کے لیے کی تلاش ہوتی ہے۔ اور  خواہش ہوتی ہے ۔ کہ لڑکی خوبصورت ہو، تعلیم یافتہ ہو، اچھے خاندان کی ہو، پندرہ سال کی ہو۔اس قسم رشتہ کے لیے وہ جگہ پیغام دیتے ہیں ۔
اور جب لڑکی دیکھائی جاتی ہے۔ تو یہ کہ کر ٹھکرادتیے ہیں ۔کہ اس کی عمر زیادہ ہے۔ کبھی یہ کہ کر ٹھکرا دیتے ہیں ۔ کہ عمر تو ٹھیک ہے۔لیکن خوبصورت  نہیں ہے ۔کبھی یہ کر ٹھکرا دیتے ہیں ۔کہ خوبصورت تو ہے ۔لیکن تعلیم یافتہ نہیں ہے ۔ یہ سوچنے کی بات ہے ۔کہ اس قسم کی باتوں کی بنا پر لڑکیوں کو ٹھکرا دیتے ہیں ۔ان لڑکیوں کی دل پر کیا گزرتی ہوگی ۔؟
اور ان کے والدین اور بہن بھائی اس کا رویہ کو کتنا محسوس کرتے ہوں گے۔؟
یہ سلوک اور یہ رویہ آج کے نوجوان میں پایا جاتا ہے ۔افسوس اس بات  کا ہے۔کہ اس قسم کے نوجوان ان کے والدین اور بزرگوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔حالانکہ ان کا فرض ہے ۔کہ اس قسم کی صورت میں تعاون کریں ۔بلکہ ایسے جوانوں کی حوصلہ شکنی کریں ۔ان کے لیے خود اچھا اور موزوں رشتہ تلاش کرکے دیں۔
رشتہ کی تلاش کے سلسلہ میں لڑکے کو اجازت ہے ۔کہ وہ خود اپنے لیے جستجو کرے ۔لیکن عام طور پر اس قسم کے رشتے اتنے مفید اور پائیدار  ثابت نہیں ہو تے۔اس وجہ سے جو اس عاجز کے ذہن میں آتی ہے ۔یہ ہے۔ کہ لڑکا جوانی کے عالم میں جوشیلا اور جزباتی ہوجا جاتا ہے ۔وہ لڑکی کے محض ظاہری خدوخال اور خوبصورت کو دیکھتا ہے ۔کہ یہ لڑکی ہميشہ اسی طرح خوبصورت رہےگی۔اور خود اسی طرح  جوان رہے گا اور  ان کے درمیان پیار اور  محبت کا سلسلہ رہےگا۔لیکن ان کا یہ سمجھنا صحیح نہیں ہوتا ۔رشتہ ہوجانے کے بعد جب سال دو سال گزر جاتے ہیں ۔تو اب وہ اپنی بیوی کو پیار نہیں دے سکتا جو شروع میں دیتا تھا۔اور وہ رویہ نہیں رکھ سکتا جو شروع میں رکھتا تھا ۔یہاں سے ان کے درمیان تلخیوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔خاندان کے لوگوں اس لیے خاموش رہتے ہیں ۔ کہ لڑکے کا رشتہ اپنی مرضی اور خوشی سے ہوا تھا۔اور رشتہ  کے ہونے میں گھر کے بڑوں اور بزرگوں  کا معروف ومعقول دخل نہیں تھا اور اس طرح پیار اور محبت سے شروع ہونے والا  یہ رشتہ طلاق اور جدائی پر منتج ہو جاتا ہے۔
رشتہ کا بہترین صورت یہ ہے۔ کہ خاندان کے بڑوں اور بزرگوں کے مشورہ سے ہو ۔خاص کر لڑکے کے والدین اور بہن بھائی اس سے مطمئن  ہوں ۔اور لڑکی کے  والدین اور اہل خانہ خوش اور رضی ہوں۔ اس قسم کے رشتہ پائیدار اور دونوں خاندانوں کے مفید ہوتا ہے ۔اس صورت میں میاں بیوی میں کہیں تلخی ہو بھی جائے تو دونوں خاندان مل کر اس تلخی کو ُدور کر لتے ہیں ۔اور رشتہ استوار رہتا ہے ۔اور سب سے بہترین رشتہ وہ ہے۔جو اپنے خاندان میں ہو۔اگر اپنے خاندان میں رشتہ ملے تو اس کو ترجیح دینی چاہیے ۔اس لیے اس قسم کے رشتہ سے خاندان کو مزید تقویت ملتی ہے ۔تعلقات اور مراسم میں اضافہ ہوتا ہے ۔فریقین آپس میں ویسے بھی مانوس ہوتے ہیں ۔اور رشتہ ازواج میں منسلک ہو جانے کے بعد ان کی زندگی اور بھی خوشگوار ہو جاتی ہے ۔
رشتہ میں خاندان کے  بڑوں اور بزرگوں  کا مشورہ  اور  ان کی. رائے  بہت اہمیت  کی حامل  ہے ۔ لیکن  ان حضرات کو اپنی رائے  لڑکے یا لڑکی پر  مسلّط نہیں  کرنی چاہئے  ۔اگر  لڑکا یا لڑکی  رشتہ سے مطمئن ہوں  تو ٹھیک  ہے ۔ورنہ جبر سے  کام  نہیں  لینا چاہئے  ۔  ہمارے ملک کے بعض حصوں  میں  رشتہ بالکل والدین  یا بزرگوں  کی مزضی سے ہوتا ہے ۔ اس میں  لڑکے یا لڑکی سے کسی قسم کا مشورہ  نہیں  لیا جاتا ۔ بلکہ  اگر لڑکا یا لڑکی کسی رشتہ  کے بارے میں  اظہار  کریں تو اسے عار اور  شرم سمجھا جاتا ہے ۔ اور  ایسے لڑکا یا لڑکی  کو طعنے دئیے جاتے ہیں ۔ خیبر پختونخواہ کے دیہاتوں  میں  یہ مشہور ہے ۔ کہ لڑکی  اگر کسی لڑکے کی طرح  میلان ظاہر کرے اور چاہے کہ اس کے  ساتھ  اس کا رشتہ ہو جائے تو ایسے لڑکے کے ساتھ  کبھی بھی اس کا رشتہ نہیں کیا جاتا، اس لیے کہ یہ غیرت کے خلاف  ہے ۔جو رشتہ والدین کے مزضی سے طے ہوتے ہیں ۔ وہ عام طورپر  کامیاب ہوتے ہیں ۔اس لیے کوئی  والدہ یا والد اپنے بیٹے یا بیٹی کے لیے یہ نہیں  چاہتا  کہ اس کا رشتہ اچھا نہ ہو ۔ ان کی پوری کوشش  ہوتی ہے ۔ کہ رشتہ اچھے  سے اچھا  ہو۔ اس لیے کہ مستقبل میں ان پر بھی  ذمہ داریاں  عائد  ہوتی ہیں ۔ لیکن بہر حال  لڑکے اور  لڑکی  کو اعتماد  میں  لینا ضروری  ہے ۔ بعض مرتبہ والدین  رشتہ  کرادتیے  ہیں ، لیکن  وہ لڑکے کو پسند  نہیں  ہوتا اور  اس طرح  وہ  فساد کا باعث بن جاتا ہے ۔
ایک اور  مصیبت جو ہمارے ملک میں  کے بعض حصوں میں پائی جاتی  ہے۔ وہ یہ ہے ۔ کہ لڑکے  یا لڑکی  کا رشتہ  بچبن میں  طے کر دتیے ہیں ۔ شمالی علاقوں  اور  چترال  وغیرہ میں اس  قسم کے رشتے  کثرت سے  طے پاتے ہیں ۔ لڑکا اور  لڑکی  دونوں  چھوٹے ہوتے ہیں ۔ ان کے والدین  مل  کر ان کا رشتہ  طے  کر لتیے ہیں ۔ اور  بعد  میں  جب وہ  بالغ ہو تے ہیں ۔ ، تو ان کی شادی  کر دتیے ہیں ۔ اس قسم کے رشتے  اگر چہ کامیاب  رہتے ہیں ۔ لیکن بعض مرتبہ  ان میں  بھی  توازن  کی کمی کی وجہ سے  تلحی شروع  ہو جاتی ہیں ۔ لڑکی قررتاّ پہلے  بڑھ جاتی ہے اور بالغ ہو جاتی ہے ۔ جبکہ لڑکا اس کے مقابلہ  میں  ابھی کمزور  ہوتا ہے ۔ یا  کوئی ایک  فریق بچبن میں  خوبصورت  اور  تندرست ہوتا ہے ۔ بعد میں  بیمار  یا کسی حادثہ کی وجہ سے اس کے اس کی خوبصورتی  اور  تندرستی  ختم ہو جاتی ہے ۔ لڑکے  کو  پڑھنے  کا موقع مل جاتا ہے ۔اور  پڑنے میں  مشغول ہو جاتا ہے ۔ اور  لڑکی  اس کے انتظار  میں  بالغ ہوتے ہوئے بیٹھی رہتی ہے ۔ اور اَن پڑھ  رہ جاتی ہے ۔ اس قسم کئ صورتیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے ایسے رشتوں  کا توازن  بعد میں  بگڑ جاتا  ہے۔ اور کامیاب نہیں  رہتے۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
جس لڑکی  سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کو ایک  نظر  دیکھ لینا گناہ نہیں بلکہ  بہتر ہے ۔ اس ضمن میں حضور اکرم صلی الله عليه وسلم کا ارشاد ہے ۔
,,حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔کہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کس آدمی کے دل میں کسی عورت کے لیے  نکاح کا پیغام دینے کا خیال ڈالے تو اس کے لیے گناہ نہیں ہے ۔ کہ ایک نظر اس دیکھ لے۔،،
***********************


ختم شد


Insaaf ke taqazay by Fakhar e Sabri


Amreen Riaz Novels List PDF




Amreen Riaz Novels List PDF

This is the social romantic novel by the writer . This is their first but not last attempt to write a story , thoughts , information etc .She is emerging new writer and its her first novel written for  Urdu  .Readers Choice This is the  group which per mote  the writer to write online and show their writing abilities and skill .Mostly writer shows us the reality and stories which are around us .They have such   ability to guide us through their words and stories .

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .You can download through the links and  can read them .If you find any issue in download or online reading links please watch the video given in link at the end of the links This novel surely grab your attention and give you eager   to read more 

Here is her novel to read and to download 


 Download Link






Click on the READ MORE  button to continue reading
If you have problem in download please click this link below 

Teacher Student Romantic Urdu Novels List PDF

Teacher Student Romantic Urdu Novels List

Here you will find all novels links based on teacher and student love stories. In that novels story plot revolve around school, college and universities student and their teachers and where mostly student fall in love with their teachers. In these stories writers also describe our college and universities environment beautifully. the care of the friends and their naughty activities are shown in this type of stories , Also how they protect the students and  then how they treat them are also shown  in them  Different writers wrote on this topic and there are so many novels based on that topic. We collect that kind of novels for our readers who like to read novels on those topics. 
If you think there are more stories similar to them let  us know plz 
Here  is the list of the stories 
Teacher Student Romantic Urdu Novels List

  1. Milne ki ghari jo thehri hai by Rizwana Ameer ul Haq
  2. Yehi pyaar hai by Shabana Sardar
  3. Hun badal waar baras we dhola by Bushra Saeed
  4. tum sang nainan laagey by Farhana Naz Malik
  5. Teri rah mein rul gai way by Memoona Khursheed
  6. Jhilmil karti bahar by Qamrosh Ashoke
  7. Wafa Ka mousam by Riffat Siraj
  8. Tum se mohabbat hai by Tanzeela Maqsood
  9. Waqt ke fasle by Aleem ul haq haqi pdf
  10. Ashniyan kia kia by Asma Qadri PDF
  11. Haan tum mjhy qabool ho by Shazia Chaudhary
  12. Ik ada thi yeh novel by Mumtaz Kanwal
  13. Tum sang naina laagy by Subas Gul PDF
  14. Neend jis ne churai hai by Rehana Aftab
  15. Sitara e zeest by Misbah Awan
  16. Der lagi aane mein lekan by Rizwana Irshad
  17. Main Sharminda hoon by Nabeela Azeez
  18. Rang e khalish by Rafaqat Javed complete pdf
  19. Mosam e gham e janan na ho by Hani Tabassum pdf


Sawera Ahmad Novels PDF



Fanna by Sawera Ahmad  (All episodes Link )PDF

This is the social romantic novel by the writer . This is their first but not last attempt to write a story , thoughts , information etc .She is emerging new writer and its her first novel written for Prime Urdu Novels .Readers Choice This is the  group which per mote  the writer to write online and show their writing abilities and skill .Mostly writer shows us the reality and stories which are around us .They have such   ability to guide us through their words and stories .

Novels are available  Here as in PDF and Online Read .You can download through the links and  can read them .If you find any issue in download or online reading links please watch the video given in link at the end of the links This novel surely grab your attention and give you eager   to read more 

Here is her novel to read and to download 


 Download Link ( Episodic Novel ) 




 Download Link ( Complete Novels  ) 



Click on the READ MORE  button to continue reading
If you have problem in download please click this link below